Thursday, January 10, 2013

بلا شبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا


صحیح بخاری حدیث نمبر : 7387

حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، أخبرني عمرو، عن يزيد، عن أبي الخير، سمع عبد الله بن عمرو، أن أبا بكر الصديق ـ رضى الله عنه ـ قال للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله علمني دعاء أدعو به في صلاتي. قال

" قل اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي من عندك مغفرة، إنك أنت الغفور الرحيم ".

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی ‘ انہیں یزید نے ‘ انہیں ابو الخیر نے ‘ انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسی دعا سکھائےے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو

” اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا۔ پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے ۔ بلا شبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا ‘ بڑا رحم کرنے والا ہے ۔ “

بد اخلاق کے اندر محبت نہیں ہوتی


بخیل کے اندر وفا نہیں ہوتی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
حاسد کو کبھی راحت نہیں ہوتی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
تنگ دل کا کوئ دوست نہیں ہوتا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
جھوٹے میں مروت نہیں ہوتی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
خائن کبھی قابل اعتماد نہیں ہوتا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بد اخلاق کے اندر محبت نہیں ہوتی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔

لا حول ولا قوۃ الا باللہ


صحیح بخاری حدیث نمبر : 7386

حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن أبي عثمان، عن أبي موسى، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فكنا إذا علونا كبرنا فقال " اربعوا على أنفسكم، فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا، تدعون سميعا بصيرا قريبا ". ثم أتى على وأنا أقول في نفسي لا حول ولا قوة إلا بالله. فقال لي " يا عبد الله بن قيس قل لا حول ولا قوة إلا بالله. فإنها كنز من كنوز الجنة ". أو قال ألا أدلك به.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے ابو عثمان نہدی نے اور ان سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور جب ہم بلندی پر چڑھتے تو ( زور سے چلا کر ) تکبیر کہتے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو! اپنے اوپر رحم کھاؤ ! اللہ بہرا نہیں ہے اور نہ وہ کہیں دور ہے ۔ تو ایک بہت سننے ‘ بہت واقف کار ار قریب رہنے والی ذات کو بلاتے ہو ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ۔ میں اس وقت دل میں لا حول ولا قوۃ الا با للہ کہہ رہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عبد اللہ بن قیس ! لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ یا آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں۔

تشریح : وہ یہی لا حول ولا قوۃ الا با للہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ غائب نہیں ہے ۔ اس کا یہ معنی ہے کہ وہ ہر جگہ ہر چیز کو ہر آواز کو دیکھ اور سن رہا ہے آواز کیا چیز ہے وہ تو دلوں تک کی بات جانتا ہے ۔ یہ جو کہا کرتے ہیں اللہ ہر جگہ حاضر وناظر ہے اس کا بھی یہی معنی ہے کہ کوئی چیز اس کا علم اور سمع اور بصرہ سے پوشیدہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے جیسے جہمیہ ملا عنہ سمجھتے ہے کہ اللہ اپنی ذات قدسی صفات سے ہر مکان یا ہر جگہ میں موجود ہے ‘ذات مقدس تو اس کی بالائے عرش ہے مگر اس کا علم اور سمع اور بصر ہر جگہ ہے ‘ حضور کا یہی معنی ہے ۔ خود امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں اللہ آسمان پر ہے زمین میں نہیں ہے یعنی اس کی ذات مقدس بالائے آسمان اپنے عرش پر ہے اور دین کے کل اماموں کا یہی مذہب ہے جیسے اوپر بیان ہو چکا ہے ۔ یہ کلمہ لاحول ولا قوۃ الا با للہ عجب پر اثر کلمہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کلمے میں یہ اثر رکھا ہے کہ جو کوئی اس کو ہمیشہ پڑھا کرے وہ ہر شر سے محفوظ رہتا ہے ۔
ہمارے پیرو مرشد حضرت مجدد کا ختم روزانہ یہی تھاکہ سو سو بار اول وآخر درود شریف پڑھتے اور پانچ سو مرتبہ لا حول ولا قوۃ الا با للہ اور دنیا اور آخرت کے تمام مہمات اور مقاصد حاصل ہونے کے لیے یہ بارہ کلمے میں نے تجربہ کئے ہیں جو کوئی ان کو ہر وقت جب فرصت ہو بلا قید عدد پڑھتا رہے ان شاءاللہ تعالیٰ اس کی کل مرادیں پوری ہوں گی ۔
” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
استغفر اللہ لا الہ الا اللہ لا حول ولا قوۃ الا با للہ یا رافع یا معزیاغنی یا حی یا قیوم برحمتک استغیث یا ارحم الراحمین
لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین حسبنا اللہ ونعم والوکیل نعم المولیٰ ونعم النصیر۔
ایسا ہوا کہ ایک ملحد بے دین شخص اہل حدیث اور اہل علم کا بڑا دشمن تھا اور اس قدر طاقت ور ہو گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہ کرسکتا تھا ۔ ہر شخص کو خصوصاً دین داروں کو اس کے شر سے اپنی عزت وآبرو سنبھا لنا دشوار ہو گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہی کلموں کے طفیل سے اس کا قلع قمع کردیا اور اپنے بندوں کو راحت دی ۔ جب اس کے فی النار والسقر ہونے کی خبر آئی تو دفعتاً یہ مادہ تاریخ دل میں گزرا۔
چونکہ بو جہل رفت ازدنیا
گشتہ تاریخ او بما ذمہ
رائے بیروں کن وبیگر حدیث
مات فرعون ھذہ الامہ۔

ذرا سوچئے


ذرا سوچئے
--------------
مال موت تک . . .
اولاد قبر تک . . .
اعمال حشر تک . . ساتھ دیتے ہیں

علم


جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا.

امام ابو حنیفہ (رحمتہ اللہ علیہ)

When Someone Sneezes


When Someone Sneezes

"If anyone of you sneezes, he should say:

الحَمْدُ للهِ
'Alhamdulillah'
(Praise be to Allah.)

And his (Muslim) brother or companion should say to him:

يَرْحَمُكَ اللَّهُ
'Yarhamukallah'
(May Allah bestow his Mercy on you.)

When the latter says 'Yarhamukallah', the former should say,

يَهْدِيْكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
'Yahdikumullah wa yuslih balakum.'
(May Allah give you guidance and improve your condition.)"

Say that IT'S SUNNAH ツ

the death from which you flee

Verily, the death from which you flee will surely meet you, then you will be sent back to (Allâh), the All-Knower of the unseen and the seen, and He will tell you what you used to
do.”
[Surah Al Jumua (62): 8]

کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آ کر رہے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا

Imam Ibn ul Qayyim al Jawziyyah wrote:

“It is a duty upon every sane person to be prepared for his departure (from this world), for one does not know when he will be served by his Lord’s commands (to take away his soul) nor does he know how long it is going to be before he will be summoned (for the Day of Judgment).

I have seen so many people enchanted by their youth. They have forgotten that their peers no longer exist, yet they are preoccupied with prolonged hopes (to stay alive).

A person in the process of acquiring knowledge may tell himself; ‘I will acquire knowledge today and will adopt it the following day.’ Such (postponement) may leave him in his deviation whilst giving himself a break (for the day)! Delaying his readiness to achieve repentance, whilst exposing himself to be indulged in sins, such as; backbiting or listening to such (backbiting) or getting involved in a Shubhah (suspected; Halaal or Haraam) matters. He hopes to cancel it out (i.e. the bad deed/s) by being observance the following day, forgetting that death may be sudden.

The wise one is he who values each and every moment of his life, observing one’s due duties. Then, if death was to come suddenly, one would be ready (to face The Judge, Allaah subhanahu wata’aala). However, if one is granted his wish (in his life being prolonged) that would mean the increasing of (one’s scale of) good deeds.”